اسلام آباد: پاکستان کی 40 سال سے زائد پرانی آؤٹ آف ہوم (Out of Home) ایڈورٹائزنگ انڈسٹری کے لیے ایک تاریخی اور یادگار لمحہ اُس وقت رقم ہوا جب وفاقی حکومت نے آل پاکستان آؤٹ ڈور ایڈورٹائزرز ایسوسی ایشن (APOAA) کو مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کے لیے بطور اسٹیک ہولڈر اپنی سفارشات اور تجاویز پیش کرنے کی باضابطہ دعوت دے دی۔
یہ صرف ایک دعوت نہیں بلکہ اُن ہزاروں افراد اور کاروباری اداروں کی محنت، شناخت اور وقار کا اعتراف ہے جو گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان کی معیشت، کاروبار اور تشہیری شعبے کا اہم ستون رہے ہیں۔ پہلی مرتبہ آؤٹ آف ہوم ایڈورٹائزنگ انڈسٹری کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ حکومت نے اسے پالیسی سازی کے عمل میں شریک کرتے ہوئے اُس کی آواز کو قومی سطح پر سنا جانے کا حق دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس صنعت کی محض پہچان نہیں بلکہ اس کے وقار، اعتماد اور اہمیت کا سرکاری اعتراف بھی ہے۔ برسوں سے ایڈورٹائزرز کا یہ خواب تھا کہ ان کے مسائل، تجاویز اور تجربات اُن ایوانوں تک پہنچیں جہاں قومی معاشی پالیسیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔ آج یہ خواب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔
اس موقع پر APOAA کے بانی و چیئرمین نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کامیابی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے ملک کے ایڈورٹائزرز، ایسوسی ایشن کی ٹیم اور اُن تمام ساتھیوں کی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ ہے جنہوں نے صنعت کو ایک منظم اور باوقار شناخت دلانے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آؤٹ آف ہوم انڈسٹری اپنے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں فعال کردار ادا کرے اور اپنی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار سے متعلق تجاویز خود مرتب کرکے حکومت تک پہنچائے۔
چیئرمین APOAA نے ملک بھر کی تمام مقامی ایسوسی ایشنز، علاقائی تنظیموں اور انفرادی ایڈورٹائزرز سے اپیل کی ہے کہ وہ 5 جون تک اپنے مفید مشورے اور سفارشات APOAA کو ارسال کریں تاکہ صنعت کی اجتماعی آواز کو قومی بجٹ سازی کے عمل میں مؤثر انداز میں شامل کیا جا سکے۔
آؤٹ آف ہوم ایڈورٹائزنگ انڈسٹری کے حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت آنے والے برسوں میں صنعت کے لیے نئی راہیں کھولے گی اور پاکستان میں تشہیری شعبے کو مزید منظم، مستحکم اور بااختیار بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوگی۔





